مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بے مثال اقتصادی جنگ کے اعلان کو محض نئی اقتصادی پابندیوں کے آغاز کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن کئی ماہ کے فوجی اور معاشی دباؤ کے بعد مؤثر اختیارات محدود ہونے کے مسئلے سے دوچار ہے۔ امریکہ اب ایران کے اندر نئے اور فیصلہ کن اہداف تلاش کرنے کے بجائے دباؤ کا دائرہ ایران سے باہر پھیلا رہا ہے اور ان ممالک، بینکوں اور کمپنیوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو تہران کو تجارت اور مالی رسائی فراہم کرتے ہیں۔
درحقیقت ٹرمپ کی نئی پالیسی کو گزشتہ دباؤ کی ناکامی کا ازالہ قرار دیا جا سکتا ہے؛ یعنی براہ راست ایران پر دباؤ کے بجائے اس نیٹ ورک کو نشانہ بنانا جو ایران کو پابندیوں سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے۔
امریکہ گزشتہ برسوں میں ایران کی معیشت کے تقریباً تمام اہم شعبوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔ ان شعبوں میں تیل، پیٹروکیمیکل، بحری نقل و حمل، دھاتیں، گاڑیاں، مرکزی بینک، مالیاتی نیٹ ورک اور مختلف اقتصادی ادارے شامل ہیں۔ اسی لیے واشنگٹن کا اصل مسئلہ اب ایران میں کسی نئے غیر پابندی زدہ شعبے کو تلاش کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ نئی پابندیاں پہلے سے موجود دباؤ کے مقابلے میں کتنی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
اسی وجہ سے ٹرمپ اب بے مثال اقتصادی جنگ کی بات کر رہے ہیں، لیکن اس جنگ کا میدان صرف ایران نہیں رہا۔ امریکہ اب غیر ملکی بینکوں، تیل کے خریداروں، تجارتی کمپنیوں اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والی حکومتوں کو بھی دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔
فوجی دباؤ ناکام ہونے کے بعد پابندیوں کا راستہ
امریکی پالیسی میں یہ تبدیلی حالیہ فوجی صورتحال کے تناظر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ واشنگٹن نے اقتصادی دباؤ میں اضافہ ایسے وقت کیا ہے جب فوجی دباؤ اپنے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہیں کر سکا۔ اگر فوجی طاقت ہی ایران کو امریکی مطالبات ماننے پر مجبور کر سکتی، تو نئی اقتصادی جنگ کا اعلان کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس لیے ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کو میدان کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے؛ امریکہ فوجی میدان سے پیچھے نہیں ہٹا بلکہ ناکافی فوجی دباؤ کو اقتصادی دباؤ کے ذریعے مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران نے پابندیوں کے مقابلے کے طریقے ڈھونڈ لیے ہیں
مغربی ماہرین کے مطابق کئی دہائیوں کی پابندیوں کے دوران ایران نے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف طریقہ کار تیار کر لیے ہیں۔ غیر رسمی تجارتی نیٹ ورک، تیل کی فروخت کے متبادل راستے، مالیاتی واسطے، مقامی کرنسیوں کا استعمال اور غیر مغربی شراکت داروں کے ساتھ تعاون ان طریقوں میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئی امریکی پابندیوں کے اثرات ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔
امریکی پالیسی کے لیے سب سے بڑا چیلنج چین ہے۔ ایران کی تیل برآمدات کا ایک بڑا حصہ چین کو جاتا ہے اور بہت سی ادائیگیاں ایسے مالیاتی راستوں سے ہوتی ہیں جو براہ راست مغربی نظام کے زیر اثر نہیں ہیں۔
واشنگٹن کے لیے کسی ایرانی کمپنی کو نشانہ بنانا اور کسی بڑے چینی بینک پر پابندی لگانا دو مختلف معاملات ہیں۔
پہلی صورت میں دباؤ زیادہ تر ایران پر پڑتا ہے، لیکن دوسری صورت میں امریکہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل چین کے ساتھ براہ راست کشیدگی کا خطرہ مول لیتا ہے۔ اسی وجہ سے چین کے خلاف ثانوی پابندیوں کے معاملے میں امریکہ کو محتاط رویہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔
پابندیوں کی تلوار امریکہ کی طرف بھی پلٹ سکتی ہے
امریکی پابندیوں کی طاقت بڑی حد تک ڈالر کی عالمی حیثیت، امریکی بینکاری نظام کی بالادستی اور عالمی مالیاتی اداروں پر واشنگٹن کے اثر و رسوخ سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ طویل عرصے سے پابندیوں کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔
تاہم پابندیوں کے مسلسل اور وسیع استعمال نے خود ان کے خلاف ردعمل بھی پیدا کیا ہے۔ کئی ممالک اب ایسے مالیاتی اور تجارتی راستے تلاش کر رہے ہیں جن میں امریکی نظام پر انحصار کم ہو۔ ایران، چین اور روس کے درمیان بڑھتا ہوا اقتصادی تعاون، مقامی کرنسیوں میں تجارت اور غیر ڈالر ادائیگیوں کے نظام کی کوششیں اسی رجحان کی علامت ہیں۔
اس طرح پابندیاں اگرچہ مختصر مدت میں دباؤ پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں، لیکن طویل مدت میں یہ ہدف بننے والے ممالک کو متبادل نظام بنانے، نئے شراکت دار تلاش کرنے اور امریکی مالیاتی اثر و رسوخ سے فاصلے کی ترغیب بھی دے سکتی ہیں۔ یوں ایک ایسا ہتھیار جو امریکہ اپنی طاقت برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے، مستقبل میں اس کے مقابل متبادل طاقتوں کے قیام کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
زیادہ دباؤ کے لیے امریکہ کو زیادہ قیمت چکانی پڑے گی
ٹرمپ کی نئی اقتصادی پالیسی کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ امریکہ جتنا زیادہ پابندیوں کا دائرہ وسیع کرے گا، اتنا ہی اسے عالمی سطح پر زیادہ پیچیدہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے واشنگٹن کو اب صرف ایرانی اداروں کو نشانہ بنانا کافی نہیں ہوگا بلکہ اسے ان ممالک، بینکوں اور کمپنیوں پر بھی دباؤ ڈالنا پڑے گا جو ایران کے ساتھ اقتصادی روابط رکھتے ہیں۔ یہی مرحلہ امریکی پالیسی کے لیے سب سے مشکل ہے، کیونکہ اس میں بڑی اقتصادی طاقتوں کے مفادات بھی شامل ہو جاتے ہیں۔
ایرانی تیل کے خریداروں پر پابندی عالمی توانائی کی منڈی کو متاثر کر سکتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔ چین پر سخت دباؤ بیجنگ کے جوابی اقدامات کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ یورپی اور دیگر غیر ملکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے سے امریکہ کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ اختلافات بڑھ سکتے ہیں۔
اس صورتحال میں واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے وہ عالمی سطح پر کتنی کشیدگی اور اقتصادی نقصان برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ کی نئی پالیسی کامیاب کیوں نہیں ہوسکتی
امریکی پابندیوں کا مقصد صرف ایران کی آمدنی کو محدود کرنا نہیں بلکہ تہران کی سیاسی پالیسیوں پر اثر ڈالنا بھی ہے۔ تاہم کئی دہائیوں کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی دباؤ ہمیشہ سیاسی تبدیلی کا باعث نہیں بنتا۔
ایران طویل عرصے سے پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور اس دوران اس نے اپنی معیشت کو چلانے کے لیے مختلف متبادل راستے اختیار کیے ہیں۔ تجارت کے نئے ذرائع، غیر مغربی شراکت داروں کے ساتھ تعاون، مقامی کرنسیوں کا استعمال اور متبادل مالیاتی نظام اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
چین اور روس جیسے ممالک کے ساتھ ایران کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھی امریکی دباؤ کے اثرات کو محدود کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی لیے واشنگٹن کے لیے اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ ایران پر مزید کون سی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایران کے اقتصادی روابط محدود کرنے کے لیے امریکہ کتنے ممالک کے ساتھ نئی کشیدگی مول لینے کے لیے تیار ہے۔
درحقیقت، موجودہ صورتحال میں پابندیوں کی پالیسی ایران کے لیے دباؤ کا ذریعہ تو بن سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ امریکہ کے لیے ایک بڑھتا ہوا سفارتی اور اقتصادی چیلنج بھی بنتی جا رہی ہے۔
دباؤ کی پالیسی سے مہنگی پالیسی تک
اگر ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کو حالیہ فوجی حالات کے ساتھ دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ امریکہ ایک بار پھر پابندیوں کی طرف لوٹ آیا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایران کی معیشت پہلے ہی تقریباً مکمل طور پر پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ اب نئے اہداف تلاش کرنے کے لیے واشنگٹن کو ایران کے بیرونی اقتصادی نیٹ ورک کو نشانہ بنانا پڑ رہا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی زیادہ قیمت والے دباؤ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ امریکہ اقتصادی دباؤ بڑھا سکتا ہے، لیکن اسے بغیر کسی نقصان کے ہمیشہ جاری نہیں رکھ سکتا۔
آخرکار ٹرمپ کی نئی پالیسی کسی نئے اقتصادی ہتھیار کی دریافت سے زیادہ واشنگٹن کے پرانے اختیارات کی محدودیت کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکہ جب فوجی دباؤ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکا تو اب وہ اسی دباؤ کو اقتصادی میدان میں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
لیکن فرق یہ ہے کہ اس بار ہدف صرف ایران نہیں ہے؛ تہران کو تنہا کرنے کے لیے امریکہ کو چین، غیر مغربی مالیاتی نیٹ ورک، تیل کے خریداروں اور عالمی کمپنیوں کو بھی دباؤ میں لانا ہوگا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے؛ ایران کو تنہا کرنے کے لیے لگائی جانے والی پابندیاں ممکن ہے کہ ایران کے مشرقی ممالک کے ساتھ تعاون، غیر ڈالر تجارت اور امریکی مالیاتی نظام سے فاصلے کے رجحان کو مزید بڑھا دیں۔
ایسے حالات میں ٹرمپ کی بے مثال اقتصادی جنگ شاید ایران پر دباؤ کے نئے مرحلے سے زیادہ، امریکی پابندیوں کی طاقت کی حد تک پہنچنے کا اظہار ثابت ہو۔
آپ کا تبصرہ